

پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی: سرمایہ کاروں اور ڈیولپرز کے لیے سنہری موقع
پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں شدید ہاؤسنگ بحران ایک بڑی سرمایہ کاری کے موقع میں تبدیل ہو رہا ہے۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ، پاکستان کو اس وقت ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھروں کی کمی کا سامنا ہے، جو ہر سال مزید بڑھ رہی ہے۔
یہ صورتحال صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاروں، ڈیولپرز اور تعمیراتی صنعت کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔
پاکستان میں ہاؤسنگ بحران: طلب میں مسلسل اضافہ
پاکستان میں گھروں کی طلب بڑھنے کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
- تیز رفتار آبادی میں اضافہ
- شہروں کی طرف ہجرت
- مشترکہ خاندانی نظام سے علیحدگی
- تعمیراتی لاگت میں اضافہ
- منظم ہاؤسنگ منصوبوں کی کمی
اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں کرایوں اور پراپرٹی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کم اور متوسط آمدنی والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
حکومتی اقدامات اور ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی
حکومتِ پاکستان ہاؤسنگ بحران کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاؤسنگ سیکٹر میں تیزی لانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس مقصد کے لیے پالیسی اصلاحات، آسان قرضے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم – حکومت پنجاب کا تاریخی اقدام
پاکستان کے شہریوں کو ہاؤسنگ بحران سے نکالنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں حکومتِ پنجاب نے اپنی چھت، اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم متعارف کرائی ہے، جسے عوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔
اس اسکیم کا مقصد پنجاب بھر میں ایک لاکھ خاندانوں کو آسان اور سستے گھریلو قرضے فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کرائے کے بجائے اپنے گھر کے مالک بن سکیں۔
اسکیم کی نمایاں خصوصیات
- ماہانہ قسط: صرف 14,000 روپے (جو ایک چھوٹے گھر کے عام کرائے کے برابر ہے)
- آسان قرضہ نظام: طویل المدتی اور قابلِ برداشت اقساط
- اہلیت:
- دیہی علاقوں میں 1 سے 5 مرلہ پلاٹ کے مالکان
- شہری علاقوں میں 1 سے 10 مرلہ پلاٹ کے مالکان
- اطلاق: پنجاب کے تمام اضلاع میں
یہ اسکیم کرایہ دار طبقے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے جو عزت، تحفظ اور معاشی استحکام فراہم کرتی ہے۔
دیگر صوبوں کے لیے قابلِ تقلید ماڈل
اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کو دیگر صوبوں میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ پورے پاکستان میں ہاؤسنگ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ بڑے لینڈ ڈیولپرز، سرمایہ کاروں اور بلڈرز کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ:
- کم لاگت اور متوسط آمدنی کے لیے ہاؤسنگ منصوبے بنائے جائیں
- حکومت کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے
- پاکستان میں گھروں کی کمی کو پورا کیا جا سکے
معاشی ترقی اور تعمیراتی صنعت کے فوائد
ہاؤسنگ سیکٹر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری صرف 30٪ صلاحیت پر کام کر رہی ہے۔
ہاؤسنگ سیکٹر میں تیزی آنے سے:
- لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی
- سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر صنعتیں فعال ہوں گی
- 40 سے زائد ذیلی صنعتوں کو فروغ ملے گا
- مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اضافہ ہوگا
آسان ہاؤسنگ فنانس: مستقبل کی کنجی
پاکستان میں گھروں کی ملکیت میں سب سے بڑی رکاوٹ سستے ہاؤسنگ قرضوں کی کمی رہی ہے، تاہم اب حکومت اور بینک اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔
جیسے جیسے ہاؤسنگ فنانس تک رسائی بڑھے گی، گھروں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
سرمایہ کاروں کے لیے یہ بہترین وقت کیوں ہے؟
پاکستان کی ہاؤسنگ مارکیٹ پیش کرتی ہے:
- مسلسل بڑھتی ہوئی طلب
- حکومتی سرپرستی اور اسکیمیں
- طویل المدتی سرمایہ کاری کے محفوظ مواقع
- کرایہ اور قیمت میں اضافہ
خاص طور پر اسلام آباد، راولپنڈی اور پنجاب میں کم لاگت ہاؤسنگ منصوبے سرمایہ کاری کے لیے نہایت موزوں ہیں۔
نتیجہ: بحران کو موقع میں بدلیں
پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ایک چیلنج ضرور ہے، لیکن یہ ایک کئی ارب روپے کی سرمایہ کاری کا موقع بھی ہے۔ درست منصوبہ بندی، حکومتی تعاون اور نجی شعبے کی شمولیت سے یہ بحران معاشی ترقی میں بدلا جا سکتا ہے۔
کیوں منتخب کریں گندھارا اسٹیٹ؟
گندھارا اسٹیٹ سرمایہ کاروں، اوورسیز پاکستانیوں اور ڈیولپرز کو محفوظ، قانونی اور منافع بخش ہاؤسنگ مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہم آپ کو درست رہنمائی، تصدیق شدہ منصوبے اور طویل المدتی قدر کی ضمانت دیتے ہیں۔
📞 آج ہی رابطہ کریں: 0300-9568645
پاکستان کے ہاؤسنگ مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے ابھی قدم اٹھائیں۔