پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہری کو شدید متاثر کیا۔ مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے ہزاروں گھرانوں نے اپنی چھتوں پر سولر سسٹم لگوائے تاکہ ایک بار لاگت پوری ہونے کے بعد وہ سستی اور ماحول دوست بجلی حاصل کر سکیں۔
لیکن حالیہ حکومتی فیصلوں اور نئے ریگولیشنز کے بعد نیٹ میٹرنگ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جس سے سولر صارفین کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔
آئی پی پیز (IPPs) اور بجلی کا مہنگا نظام
پاکستان میں حکومت نے مختلف Independent Power Producers (IPPs) کے ساتھ معاہدے کیے، جن میں ادائیگی کو امریکی ڈالر سے منسلک کیا گیا۔
یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ:
- جب کچھ پاور پلانٹس نے بجلی پیدا نہیں کی تو بھی انہیں کیپسٹی پیمنٹ کیوں دی گئی؟
- ایسے معاہدوں کے اصل فائدہ اٹھانے والے کون تھے؟
- کیا یہ معاہدے قومی مفاد میں تھے؟
موجودہ حکومت کو مہنگی بجلی کے ٹیرف کا بڑا چیلنج درپیش تھا۔ تاہم، حکومت نے کچھ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کر کے چند معاہدوں میں ترمیم یا خاتمہ کیا، جو ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
سولر انرجی – ماحول دوست مگر معاشی دباؤ
درمیانے اور بالائی طبقے نے بجلی کے بلوں سے بچنے کے لیے سولر سسٹم نصب کیے۔
سولر توانائی کے فوائد:
✔ صاف اور گرین انرجی
✔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی
✔ طویل مدتی بچت
لیکن دوسری طرف:
❗ لائن لاسز
❗ آئی پی پیز کے معاہدے
❗ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ
ان عوامل نے کم آمدنی والے طبقے پر مزید بوجھ ڈال دیا کیونکہ گرڈ پر باقی رہنے والے صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
نیپرا (NEPRA) کا نیا فیصلہ
National Electric Power Regulatory Authority (نیپرا) نے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔
🔹 فکسڈ چارجز کی تفصیل
محفوظ صارفین (Protected Consumers):
- 1–100 یونٹ: 200 روپے فی کلوواٹ
- 101–200 یونٹ: 300 روپے فی کلوواٹ
غیر محفوظ صارفین (Non-Protected Consumers):
- 1–100 یونٹ: 275 روپے فی کلوواٹ
- 101–200 یونٹ: 300 روپے
- 201–300 یونٹ: 350 روپے
- 301–400 یونٹ: 400 روپے
- 401–500 یونٹ: 500 روپے
- 600 یونٹ تک: 675 روپے
🔹 دلچسپ پہلو
زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کچھ ریلیف دیا گیا:
- 601–700 یونٹ: 125 روپے فی کلوواٹ کمی
- 700 سے زائد یونٹ: 325 روپے فی کلوواٹ کمی
🔹 ویری ایبل ٹیرف میں کمی
- 400 یونٹ تک: 1.53 روپے فی یونٹ کمی
- 500 یونٹ تک: 1.25 روپے کمی
- 600 یونٹ تک: 1.40 روپے کمی
- 700 یونٹ: 0.91 روپے کمی
- 700 سے زائد: 0.49 روپے کمی
یہ فیصلہ حتمی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے۔
پراپرٹی مارکیٹ پر اثرات
یہ تبدیلیاں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بھی اثر انداز ہوں گی، خاص طور پر:
🏠 1. سولر والے گھروں کی ڈیمانڈ
نیٹ میٹرنگ ختم ہونے کے بعد بھی سولر سسٹم والے گھروں کی ویلیو برقرار رہے گی کیونکہ وہ کم از کم دن کے وقت خود کفیل رہ سکتے ہیں۔
📈 2. انرجی ایفیشنٹ گھروں کی اہمیت
آنے والے وقت میں خریدار ایسے گھروں کو ترجیح دیں گے جن میں:
- سولر سسٹم
- انورٹر
- انرجی سیونگ ڈیزائن
- کم بجلی خرچ کرنے والے آلات
💰 3. سرمایہ کاری کا نیا رجحان
اوورسیز پاکستانی اور سرمایہ کار اب ایسے منصوبوں میں دلچسپی لیں گے جہاں:
- یوٹیلیٹی اخراجات کم ہوں
- گرین انرجی شامل ہو
- طویل مدتی بچت ممکن ہو
خریداروں کے لیے مشورہ
اگر آپ پاکستان میں پراپرٹی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو:
✔ ایسے گھر منتخب کریں جن میں سولر سسٹم پہلے سے نصب ہو
✔ بجلی کے کنکشن کی کیٹیگری اور لوڈ کی معلومات حاصل کریں
✔ فکسڈ چارجز اور متوقع بل کا تخمینہ لگائیں
✔ انرجی ایفیشنٹ تعمیرات کو ترجیح دیں
نتیجہ
پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے خاتمے اور نئے بجلی ٹیرف نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ایک طرف مہنگے معاہدوں کا بوجھ ہے، دوسری طرف عام صارف کی مشکلات۔ تاہم، مستقبل گرین انرجی اور اسمارٹ ہاؤسنگ کا ہے۔
جو خریدار آج سمجھداری سے انرجی ایفیشنٹ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرے گا، وہ کل کے مہنگے یوٹیلیٹی بلز سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔