پاکستانی حکومت نے نیویارک میں واقع اپنے تاریخی روزویلٹ ہوٹل (Roosevelt Hotel) بینکوں میں سے ایک JPMorgan اس ہوٹل کو خرید کر اپنے تیزی سے پھیلتے ہوئے مڈ ٹاؤن مین ہیٹن کیمپس کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔
فنانشل ٹائمز (FT) کی رپورٹ کے مطابق JPMorgan ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس ہوٹل کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ یہ ان کے نئے 270 پارک ایونیو ہیڈکوارٹر کے بالکل قریب واقع ہے۔ تاہم پاکستان کی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس پراپرٹی کو مکمل طور پر فروخت نہیں کرے گی بلکہ یہاں ایک بلند و بالا جدید عمارت (High-Rise Development) بنانے کے لیے کسی عالمی سرمایہ کار کے ساتھ جوائنٹ وینچر کرنا چاہتی ہے، جبکہ ملکیت کا حصہ اپنے پاس رکھے گی۔
یہ تاریخی ہوٹل، جو گرینڈ سینٹرل اسٹیشن سے چند منٹ کی مسافت پر واقع ہے، تقریباً ایک صدی پرانا ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس کی حالت خراب ہو گئی تھی اور اسے عارضی طور پر نیویارک سٹی کی جانب سے مہاجرین کی پراسیسنگ سینٹر کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔
پاکستان نے یہ ہوٹل 1970 کی دہائی میں حاصل کیا تھا اور بعد میں اسے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کے ذریعے چلایا جاتا رہا۔ تاہم کورونا وبا کے بعد مالی نقصانات کے باعث یہ 2020 میں بند کر دیا گیا۔
حکومتِ پاکستان اب اس قیمتی مین ہیٹن پراپرٹی کو ایک اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبے میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو PIA کے واجبات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو کم کرنے میں استعمال کیا جا سکے۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین کے مطابق کئی عالمی ادارے اور بینک اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور حکومت جلد ایک نئے مالیاتی مشیر کی تقرری کے بعد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کے مذاکرات شروع کرے گی۔
Source: Financial Times 📖 مکمل خبر پڑھنے کے لیے فنانشل ٹائمز کا لنک:
https://www.ft.com/content/31b2cf59-9ea4-4d59-8fae-48e0321d60dd
#Pakistan #RooseveltHotel #NewYork #PIA